عدالت کے فیصلے پر مودی غور کرے ۔کانگریس

نئی دہلی ، 11 جنوری (یواین آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ کسان تحریک کے خاتمے کے لئے کسانوں سے مذاکرات کی حکومت کی کوششوں کو ناکام قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی کو سامنے آکراحتجاج کے دوران شہید کسانوں کو خراج تحسین پیش کرکے ان سے معافی مانگنا چاہئے۔
کانگریس کے میڈیا انچارچ رندیپ سنگھ سورجے والا نے پیر کو یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ سپریم کورٹ نے کسانوں کے احتجاج پر حکومت سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
عدالت کو حکومت کو کہنا پڑا کہ اگر آپ کچھ نہیں کرسکتے تو عدالت قانون کو روک سکتی ہے۔ عدالت نے حکومت کی ناکامی پر مہر ثبت کردی ہے اور کسانوں سے مذاکرات میں ناکامی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب وزیر اعظم نریندر مودی کو آکر زراعت مخالف تینوں قوانین کے خاتمے کا اعلان کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس ان تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔
حکومت خود ان قوانین میں بہت ساری ترمیم کرنے کے لئے تیار ہے ، لہذا یہ بات واضح ہے کہ قانون میں بہت ساری خامیاں ہیں اور حکومت سرمایہ داروں کی حمایت کر رہی ہے اور ان کے مفاد میں کام کر رہی ہے۔ کسان کو ان قوانین میں دلچسپی نہیں ہے ۔ اس لئے ان تینوں قوانین کو ختم کیا جانا چاہئے۔ترجمان نے بتایا کہ کسانوں کے احتجاج کے دوران اب تک 67 کسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ حکومت کا کسانوں کے ساتھ ہر مرتبہ بات چیت ناکام ہو رہی ہے اور حکومت کسانوں کے مطالبے کو قبول نہیں کرنے پر بضد ہے۔ مسٹر مودی کو آگے آکر شہید کسانوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہئے۔
وزیر داخلہ امیت شاہ ، ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر اور اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان تین لوگوں کی وجہ سے کسانوں کو دہلی آنے سے روکنے کے لئے سردی میں سڑکیں کھودی گئیں، پانی کی بوچھاڑیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو ان تینوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دینا چاہئے۔