On اکتوبر 7, 2021

سری نگر()بھارتی خفیہ اداروں نے مقبوضہ کشمیر میں اس سال ٹارگٹ کلنگ میں 25 سیاسی کارکنوں سمیت59  افراد کو قتل کر دیا ہے 168عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔ جمعرات کو بھی سری نگر  میں دو اساتذہ کو قتل کر دیا گیا ۔ اس سال  ضلع سری نگر میں  10  سیاسی کارکن قتل ہوئے ، کلگام  میں پانچ ، اونتی پورہ کے ترال علاقے میں چار ، بارہمولہ اور اننت ناگ سے دو اور بڈگام اور بانڈی پورہ  میں ایک ایک سیاسی کارکن کو قتل کیا گیا۔ نہتے شہریوں کے ساتھ ساتھ سیاسی کارکنوں اور اقلیتی برادری کے ارکان کے قتل کا مقصد کشمیر یوں کی تحریک کو فرقہ وارنہ قرار دینا اور کشمیر میں سخت اقدامات کا جواز تلاش کرنا ہے ۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں حالیہ دنوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ چار دن کے دوران اس طرح کے واقعات میں ایک معروف فارماسسٹ سمیت چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ان ٹارگٹ کلنگز کی کل جماعتی حریت کانفرنس( میرواعظ گروپ) کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں اور قائدین نے  مذمت کی ہے۔۔سوشل میڈیا پر ان ہلاکتوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ تاہم ان میں سے بعض کا استفسار تھا کہ نہتے شہریوں بالخصوص بِندرو کو ہلاک کرنے کا فائدہ کس کو ہو سکتا ہے کیونکہ اس طرح کی کارروائیوں سے کشمیریوں کی تحریکِ مزاحمت بدنام ہوتی ہے۔حریت کانفرنس( میر واعظ)ے بِندرو کی ہلاکت کو کشمیری معاشرے کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں حریت کانفرنس نے کہا “ہم مزید دو اور نہتے شہریوں کے ہلاکتوں کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں ۔یہ انسانیت کے خلاف پرتشدد کارروائی اور قتلِ عام کے مترادف ہے۔”ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا تو اس طرح کے واقعات بھی رک جائیں گے۔  رپورٹ کے مطابق   فارماسسٹ باندروں سے قبل28 فروری کو سری نگر کے ایک مشہور ڈھابہ مالک کے بیٹے آکاش مہرا  کو گولی ماری گئی۔29 مارچ کو ضلع بارہمولہ کے سوپور علاقے میں دو کونسلر ریاض احمد پیر اور شمس الدین پیر ہلاک ہوگئے۔11 اپریل کو ماگام بڈگام کے ایک سابق پولیس افسر نثار احمد کو قتل کر دیا گیا۔29 مئی کو جبلی پورہ بجبہاڑہ کے دو شہری سنجید احمد پیری اور عبدالعظیم پیری اپنے علاقے میں مارے گئے۔02 جون کو جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ترال علاقے میں میونسپل کونسلر راکیش پنڈیتا کو قتل کردیا گیا۔23 جون کو حبہ کدل کے رہائشی عمر احمد کو اس کے علاقے میں قتل کر دیاگیا۔27 جون کو ایس پی او فیاض احمد اپنی اہلیہ راجہ بیگم اور بیٹی رفیعہ جان کے ساتھ ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ کے علاقے ہری پیری گام میں مارے گئے۔